آج دنیا بھر میں انسان کسی نہ کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہے۔ امریکا، یورپ، آسٹریلیا جیسے براعظموں میں نسبتاً بہتر صورتحال ہے حالانکہ وہاں کھانے اور پینے کی بعض بُری عادات و اطوار رائج ہیں۔ اس کے برخلاف برصغیر ہند میں جہاں دنیا کی سب سے زیادہ مسلم آبادی ہے، وہاں خود مسلمانوں کی طبی حالت بعض حرام چیزوں سے دور رہنے کے باوجود ابتر ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن نمایاں وجہ ایمان کے دعوے داروں کا محسن انسانیت، رحمة اللعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے طب ِ نبوی کو فراموش کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔
مسلمانوں کے لیے جس طرح کسی بھی بھلادی گئی سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کرنا بڑی نیکی کا عمل ہے، اُسی طرح طب ِ نبوی کے بارے میں کہا جاسکتا ہے۔ آج کے مشینی دور میں طب نبوی کی جو ضرورت ہے وہ شاید پہلے کبھی اس قدر شدید نہ تھی۔ شہر حیدرآباد سے صحافتی برادری کے دو نمائندوں نے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سماج میں نہ صرف عامة المسلمین بلکہ مفاد عامہ میں دوبارہ اُجاگر کرنے کے نیک مقصد سے 56 صفحات پر مشتمل جامع کتاب ”طب نبوی ﷺ کے آسان اور مفید نسخے“ کی مفت اشاعت کے ذریعے خوب کاوش کی ہے۔ اس ضمن میں جناب رحیم حیدر نے ”طب ِ نبوی فاونڈیشن“ تشکیل دیا ہے۔ اس کتاب کے مولفین جناب رحیم حیدر (9396621243) اور (میرے دوست) محمد مجاہد علی (9700374120) کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے اجر عظیم کی عطائی کا دعاگو ہوں۔
کئی مستند احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ طب ِ نبوی ﷺ میں ہر بیماری سوائے موت کا علاج موجود ہے۔ زندگی کی طرح موت بھی اٹل حقیقت ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ نے کسی نفس کو مستثنا نہیں رکھا ہے۔ کتاب کے 19 ابواب میں .... دردِ دل کا قرآنی حل، قرآن مجید شفاءکا مظہر، صحت مند زندگی کیسے گزاریں، طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور غذائیں، کلونجی، انجیر، سرکہ، زیتون، کھجور، میتھی، شہد و دیگر موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
فی زمانہ ادھیڑ عمر اور اُن سے بڑے حضرات تو اُردو سے ضرور واقف ہوں گے اور اُن کے لیے اس کتاب سے استفادہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ تاہم، ہماری نوجوان نسل کو ہم والدین نے دانستہ یا نادانستہ طور پر ’اردو‘ سے دور رکھا ہوا ہے۔ اب پہلے اردو سیکھو ، پھر طب نبویﷺ کو سمجھو اور عمل کرو .... یہ بڑی حد تک ناقابل عمل اور نئی نسل پر مزید بوجھ ڈالنے والی بات ہوگی۔ چنانچہ مولفین حضرات نے اس کتاب کو جو ہفتہ 19 جولائی کو میڈیا پلس آڈیٹوریم حیدرآباد میں منعقدہ تقریب میں جاری ہوئی، نہ صرف ہماری نئی نسل کے لیے ’رومن انگریزی‘ میں بلکہ ہمارے تلگوداں ابنائے تلنگانہ و آندھرا پردیش کے لئے ’تلگو‘ میں بھی ممکنہ حد تک جلد شائع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
میرے خیال میں اس کتاب کی اجرائی اور مفت تقسیم قابل تحسین اقدام ہے۔ تاہم، یہ کاوش ہماری برادری اور سماج کے نیک دل اور سربرآوردہ شخصیتوں کی اللہ واسطے سرپرستی کی متقاضی ہے۔ ہمارے ساتھ اکثر یہی ہوتا آیا ہے کہ کوئی بندہ بندی نیکی کا عمل شروع کرے تو اُسے عملی میدان کی جو دشواریاں پیش آتی ہیں، اُس میں شاید ہی کوئی اُسے حقیقی معنی میں حوصلہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے سماج میں اچھی کاوشوں کا دامے، درمے، سخنے حصہ بننے والی شخصیتیں ناپید نہیں ہوئی ہیں!


Find out more: